8 اپریل 2012 - 19:30

پاکستان کے مختلف علاقوں میں شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف مذمت اور مظاہرے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

ابنا: اس سلسلے میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ راجہ ناصر عباس جعفری نے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاجی دھرنے میں اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت اور بلتستان کے شہداء کی لاشیں اس قدر پامال کر دی گئی ہیں کہ ان کی شاخت ناممکن ہے جب کہ ان میں سے بعض لاشیں جلی ہوئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شیعہ مسلمان اس وقت تک اپنا دھرنا جاری رکھیں گے جب تک شہداء کی لاشوں کو ان کے ورثاء کے حوالے نہیں کیا جائے گا، مظاہرین نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ حکومت، گلگت میں فوجی نظام کو ختم کرکے گلگت اور بلتستان میں امن و چین برقرار کرنے کے لئے دہشت گرد عناصروں سے سختی سے مقابلہ کرے۔

چلاس کے دلخراش واقعے میں دہشت گردوں نے شیعہ مسافروں کو بس سے اتار کر ان پر اندھادھند فائرنگ کردی اوران کے سروں اور چہروں کو بھاری چیزوں سے پامال کردیااور ان پر ایسیڈ ڈال کر اس میں آگ لگا دی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد عناصر بہت زیادہ گستاخی و بے شرمی پر اتر آئے ہیں، انہوں نے صرف قتل عام ہی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ لاشوں کی بے حرمتی کرکے اس بات کی کوششکی ہے کہ مسلمانوں کو پہلے سے زیادہ برانگیختہ کر دیں حالانکہ گلگت میں اب تک ساٹھ سے زائد شیعہ افراد شہید ہوگئے ہیں اور اس وقت تمام جگہوں سے علاقے کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

حالانکہ پاکستان میں شیعہ مسلمان تمام فرق و مذاہب کے ساتھ مل جل کر زندگی بسر کررہے تھے لیکن فرقہ پرست طاقتیں، جن کی بیرونی ملک سے حمایت کی جارہی ہے اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ شیعوں اور سنیوں کا قتل عام کرکے دونوں کو ایک دوسرے کا جانی دشمن بنا دیں۔

اور پورے پاکستان کو فرقہ وارانہ جنگ کی بھڑکتی آگ میں ڈھکیل دیں۔اسی لئے پاکستان کے ایک عالم اہل سنت نے شیعوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اسلام آباد پارلیمنٹ کے سامنے جاری احتجاجی دھرنے میں شرکت کی ۔

جمعیت علمای اسلام کے ایک رہنما حافظ حسین احمد نے بھی چلاس علاقے میں شہید ہونے والے شیعوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اسلام آباد میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے احتجاجی دھرنے میں شرکت کی ۔

انہوں نے چلاس میں بے گناہ شیعوں کے قتل عام کی شدید مذمت کی اسی طرح شیعوں کے رہنما علامہ اعجاز حسین بہشتی نےبھی حافظ حسین احمد سے ملاقات کرکے انہیں گلگت و بلتستان کی شدید صورتحال کے متعلق تفصیلی رپورٹ سےآکاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس علاقے میں شیعوں کی شہادت کے پانچ دن گزرجانے کے باوجود ان کے جنازے اب تک دفن نہیں ہوئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس وقت جب کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز کا وظیفہ ہے کہ دہشتگرد گروہ اور فرقہ پرست عناصروں سے مقابلہ کرے ، علماء بھی عوام کو صبر و تحمل سے کام لینے کی تلقین کرتے ہوئے دہشتگردوں سے مقابلے اور انہیں پسپائی پر مجبور کرنے کے لئے بہترین قدم اٹھاسکتے ہیں۔

حالانکہ دہشتگردوں نے اپنے سفاک کارناموں سے ظاہر کردیا ہے کہ ان کی نظر میں شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں ہے اوروہ اپنی مذموم سازشوں کے ذریعے ہر طرح کی جارحیت انجام دے سکتے ہیں۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ تمام فرق و مذاہب کے درمیان اگر سکون واطمینان اور سلامتی کے ساتھ زندگی بسر کرنا اور ملک میں امن و امان اور ثبات و پائداری قائم کرنا ہے تو پاکستان کے عدالتی اور سیکورٹی اداروں کو چاہئیے کہ علماء سے مکمل طور پر تعاون و ہماہنگی کريں تاکہ دہشتگرد گروہ اور فرقہ پرست شر پسند عناصر اپنے آپ کو محفوظ نہ سمجھیں۔

....... /169